4 فروری 2011 - 20:30

بقلم: حسن رضایی مہر ترجمه: خلیل حسین حسینی

خلاصہ : 

 علم و دین کی قدامت اور ان کے درمیان ربط و تعلق اتنا ہی پرانا ہے جتنی کہ اس کے منابع اور مبادی پرانے ہیں اور ان کے درمیان تناسب یا عدم تناسب کی بحث بھی بہت ہی پرانی ہے۔ اس سلسلے میں مختلف مکاتب نے مختلف نظریات بھی پیش کئے ہیں اور مغربی دنیا میں اس سلسلے میں کافی وسیع بحث ہوئے ہوئے۔ اور ہر کسی نے کسی ایک رجحان کی پیروی کی ہے۔ البتہ یہ مسئلہ ان معاشروں سے تعلق رکھتا ہے جو علم اور دین کے مقام و منزلت کو تسلیم کرتے ہیں کیونکہ سیکولر اور لادین معاشروں میں دین کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور اس کو علم اور سائنس وغیرہ کے مقابل لانے یا اس کے ساتھ جوڑنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ نیز اگر کوئی معاشرہ بالفرض سائنس کے لئے کسی منزلت کا قائل نہ ہو وہاں بھی اس مسئلے پر بحث بےجا ہوگی کیونکہ ایسے معاشرے میں علم و سائنس کی اتنی حیثیت نہیں ہے کہ وہ دین کے مقابل یا اس کے ہمراہ بحث کا موضوع قرار دیا جائے اور ان معاشروں میں سائنس کو دین کے بارے میں بولنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔

متن: 

 

علمی اور دینی حوزات کی ترویج میں امام رضا (ع) کا کردار 

 علم و دین کی قدامت اور ان کے درمیان ربط و تعلق اتنا ہی پرانا ہے جتنی کہ اس کے منابع اور مبادی پرانے ہیں اور ان کے درمیان تناسب یا عدم تناسب کی بحث بھی بہت ہی پرانی ہے۔ اس سلسلے میں مختلف مکاتب نے مختلف نظریات بھی پیش کئے ہیں اور مغربی دنیا میں اس سلسلے میں کافی وسیع بحث ہوئے ہوئے۔ اور ہر کسی نے کسی ایک رجحان کی پیروی کی ہے۔ 

البتہ یہ مسئلہ ان معاشروں سے تعلق رکھتا ہے جو علم اور دین کے مقام و منزلت کو تسلیم کرتے ہیں کیونکہ سیکولر اور لادین معاشروں میں دین کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور اس کو علم اور سائنس وغیرہ کے مقابل لانے یا اس کے ساتھ جوڑنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ نیز اگر کوئی معاشرہ بالفرض سائنس کے لئے کسی منزلت کا قائل نہ ہو وہاں بھی اس مسئلے پر بحث بےجا ہوگی کیونکہ ایسے معاشرے میں علم و سائنس کی اتنی حیثیت نہیں ہے کہ وہ دین کے مقابل یا اس کے ہمراہ بحث کا موضوع قرار دیا جائے اور ان معاشروں میں سائنس کو دین کے بارے میں بولنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ 

پس اس بحث کا تعلق ان معاشروں سے ہے جنہوں نے دین اور علم کی منزلت تسلیم کی ہو۔ بہرحال یہ امر مسلم ہے کہ علم و دین کی بحث ہر دور میں انسان کے ذہنی مشاغل میں اہمیت کے حامل تھے۔ اور اس بحث کو ہر دور میں ہر اس معاشرے میں شروع کیا جاسکتا ہے جو ان دو کے مقام و منزلت کو تسلیم کرتا ہو۔ 

علم و دین کی حالت کا مسئلہ جن ادوار میں قابل بحث ہے ان ہی ادوار میں ایک امام رضا (ع) کا دور ہے۔ 

 ہم یہاں دیکھتے ہیں کہ امام رضا (ع) کے دور میں علم کی کیا حالت تھی اور امام (ع) کا موقف اس حوالے سے کیا تھا؟ تا کہ علم و دین کے درمیان ربط کی عالمانہ اور محققانہ نظریئے تک پہنچ سکین۔ 

1۔ عصر رضوی میں علم کا حال

 مورخین امام رضا (ع) کے دور کو علمی بالیدگی اور روئیدگی و بڑھوتری اور اسلامی تہذیب کی عالمگیریت کے حوالے سے سنہرے دور سمجھتے ہیں۔ اور اور اسلامی ادوار میں ایک تابناک اور سب سے حیرت انگیز دور قرار دیتے ہیں۔ اس دور میں مسلمانوں کی علمی اور سائنسی پبشرفت نے کرہ خاکی پر اپنا تسلط جمالیا تھا۔ مختلف شعبوں میں علمی و سائنسی سرگرمیوں میں قابل قدر اضافہ ہوا تھا اور اس تاریخی دور میں اسلامی تہذیب کی ترقی اور فروغ نقطہ عروج تک پہنچا۔ اس عصر میں فروغ یافتہ علمی اور ثقافتی مظاہر اور نشانیان ہمیں مسلمانوں کی علمی حالت کے بارے میں بہتر انداز سے اس دور کے مسلمانوں کی علمی پوزیشن سے آگہی میں مدد پہنچاتی ہیں۔ اور ہم یہاں بعض مظاہر کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ 

 1۔ علمی نشستوں کا انعقاد، ان نشستوں کے عوامل میں اضافہ اور رکاوٹوں میں کمی کا اہتمام کیا جاتا تھا تا کہ اہل نظر آسانی اور آزادی سے تحقیق و مطالعہ کرسکیں۔ مختلف شعبوں میں علمی حلقے تشکیل دیئے جاتے تھے اور مختلف علمی موضوعات پر بحث ہوتی تھے۔ اسلامی دنیا کے مختلف علاقوں میں متعدد کتب خانوں کی بنیاد رکھی گئی؛ مسلم علماء کے لئے تحقیق اور تحصیل علم کے بھرپور مواقع فراہم کئے گئے اور اسلامی علماء اور دانشوروں کو اسلامی مملکت میں اکٹھا کیا گیا۔ 

حکومت نے تقریباً تیس بڑے اور اونچی سطح کے مدارس قائم کئے تھے جن میں مدرسہ نظامیہ سب سے زیادہ مشہور ہوا۔ ان مدارس میں عمومی کتب خانے قائم کئے گئے جن میں سب سے مشہور کتب خانہ دارالحکمہ تھا۔ (1) 

"تحریک ترجمہ": 

امام رضا (ع) کے دور کی علمی تحریکوں میں سے ایک اہم تحریک – جس نے مسلمانوں کے علمی ارتقاء میں اہم کردار ادا کیا – بیرونی زبانوں میں موجود کتابوں کی عربی زبان میں تراجم سے عبارت تھے۔ طب، ریاضیات، فلسفہ، سیاسی علوم Political Science ، علم نجوم Astrology وغیرہ جیسے درآمد شدہ علوم میں تحقیق نے علمی تحقیقات کے جذبے کو تقویت پہنچائے۔

"ابن ندیم" اپنی کتاب الفہرست میں کئی کتابوں کا ذکر کرتے ہیں اور خاص طور پر تحریک ترجمہ کے بارے میں لکھتے ہیں کہ مأمون نے روم کے بادشاہ کے نام اپنے مراسلوں کے ضمن میں ان سے درخواست کی تھی کہ خیرسگالی اور تعاون کے عنوان سے اپنے گوداموں میں ذخیرہ ہونے والی کتابوں کو بغداد بھیجنے کی اجازت دے دیں؛ روم کے بادشاہ نے ابتدا میں ممانعت کی مگر آخر الامر اس درخواست کا مثبت جواب دیا اور مأمون نے حجاج بن مطر، ابن بطریق اور دارالحکمہ کی سرپرست «سلم» کو کئی دیگر ماہرین کے ہمراہ روم روانہ کیا اور انہوں نے وہ تمام کتابین دارالحکمہ میں منتقل کردیں۔(2) ان کتابوں کے تراجم نے مسلمانوں کے علمی حلقوں کی بڑی مدد کی؛ تمام اسلامی ممالک میں نئے علمی آراء ظہور پذیر ہوئے اور تنقید اور جائزوں کو وسعت ملی؛ اسلامی معاشرے کے علمی ارتقاء میں ان تراجم نے اہم کردار ادا کیا۔ اگرچہ ان کتابوں کے بعض موضوعات و مباحث – جو اسلامی افکار و عقائد سے متصادم تھے اور ان میں الحادیات کا شائبہ تھا جو – عالم اسلام کے علمی حلقوں کے افکار میں اعتقادی مسائل کا باعث بنے۔ 

 3۔ رصدگاہ (Observatory